نئی دہلی:30/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)وکلاء کی طرف سے عدلیہ اور ججوں پر کئے جانے والے حملوں پر سپریم کورٹ نے بھی ’حملہ‘ کیا ہے۔ ایک فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کو سیاسی رنگ میں شامل کرناعدلیہ کی توہین ہے۔ ججوں اور عدلیہ کو سیاسی مقاصد کے تحت نہیں رکھا جا سکتا۔ ججوں کے خلاف مناسب فورم پر شکایات درج ہوں؛ لیکن حق میں فیصلہ نہ آنے پر ججوں پر پریس کے ذریعہ حملہ نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وکلاکو پریس میں مباحثہ کے ذریعے فیصلوں کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ ججوں پر آئینی ادارہ (عدلیہ )کے وقار کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی ہے۔ وہ پریس میں جا کر اپنا موقف یا خیال نہیں رکھ سکتے۔ تو عدلیہ میں خدمات انجام دینا، فوجی خدمات سے کم نہیں ہے۔یہ فیصلہ جسٹس ارون مشرا کے بنچ نے سنایا ہے۔دراصل مقدمات کی تقسیم کو لے کر جسٹس مشرا پر کچھ فیصلوں کے لئے سوال اٹھائے گئے تھے۔ دراصل مدراس ہائی کورٹ نے وکلاء کے لئے اصول وضع کیے تھے جن کے تحت ہائی کورٹ یا ضلعی عدالت کے کسی وکیل کو عدالت میں پیش ہونے سے مہلت مل سکتی تھی۔ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ میں جسٹس ارون مشرا اور جسٹس ونیت شرن کے بنچ نے ہائی کورٹ کے قوانین کو منسوخ کر دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کی حقوق کو چھینا نہیں جا سکتا۔